ابنا: غسان سالہاسال الجزیرہ کے ساتھ رہے لیکن عرب ممالک میں اسلامی بیداری اور عوامی تحریکوں میں الجزیرہ کے ڈبل سٹینڈر اور خاص کر الجزیرہ اور امریکی کمپنیوں کے درمیان خفیہ معاہدوں کی وجہ سے غسان سمیت بہت سے صحافیوں نے الجزیرہ سے استعفی دیا تھا اس استعفے کے ساتھ دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نے بیروت میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ عرب عوام کو سچائی اور حقیقت پر مبنی خبروں کے لئے ایک معیاری ٹی وی چینل لانچ کرنا چاہتے ہیں ۔الاتحاد نامی نیا چینل جو اس وقت اپنی ٹسٹ ٹرانسمیشن شروع کرچکا ہے کا سربراہ غسان جدو ہیں عرب ممالک میں مشرو وسطی سے افریقہ تک چلنے والی جمہوری اور استقلالیت کی تحریک نے جہاں خود عرب ڈکٹیٹر خاندانوں کو سخت مشکل میں ڈالاہوا تو دوسری جانب خطے میں بڑی طاقتوں خاص کر امریکہ اور اسرائیل کے کئی دہائیوں سے بنائے ہوئے پٹھووں کو بھی مات دی ہے جس کے سبب ان طاقتوں کو خطے میں اپنی پالیسی پر مزید عمل در آمد میں مشکل پڑرہی ہے بلکہ بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اسرائیل کے خاتمے کی سوئی واپس لوٹ رہی ہے ۔...........
/169